16 جون 2010 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران آج ترک اسلحہ کانفرنس کا میزبان ہے ۔ یہ بین الاقوامی کانفرنس ایٹمی انرجی سب کے لئے اورایٹمی اسلحہ کسی کے لئے نہيں کے نعرے سے شروع ہوئی کانفرنس کا آغاز رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای کے پیغام سے ہوا ۔

رہبرانقلاب اسلامی نے اپنے اس پیغام میں انسانی زندگی میں جوہری علوم کے بے مثال کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس حقیقت کی یاددہانی کرائی کہ آج ایٹم کانام جس طرح سے انسانی علوم کی ترقی کی علامت بنا ہوا اسی اعتبار سے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ تاريخ کے بدترین واقعہ اورانتہائي وحشیانہ نسل کشی اورانسانی علوم سے غلط استفادے کی بھی یاد دلاتا ہے ۔درحقیقیت امریکہ کے ذریعہ سب سے پہلے جاپانی شہروں ہیروشیما اورناکاساکی پرگرائے جانےوالے ایٹم بموں کے ہولناک واقعات کے بعد سے جس نے انسانی تاریخ میں انتہائي غیرمعمولی حادثے کوجنم دیا اورجس کے بعد سے انسانی زندگي مسلسل خطرات کا شکار ہے اس خطرناک اسلحہ کی نابودی کی باتیں اٹھنےلگیں اورپوری قوت کےساتھ یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ ایٹمی ہتھیاروں کونابود کردیا جانا چاہئے لیکن اس عالمی مطالبے کے باوجود بعض ایٹمی طاقتوں نے گذشتہ برسوں کے دوران ديگرتمام طاقتوں کے مقابلے میں دفاعی نظریات سے بھی آگے بڑھ گئیں یہاں ان حکومتوں کی جدید ایٹمی پالیسیوں میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیاں بھی شامل ہوگئيں ۔ امریکہ نے واشگنٹن کے ایٹمی سیکورٹی اجلاس میں پوری دنیا کویہ پیغام دیا کہ جن ملکوں کے پاس ایٹمی اسلحے موجود ہيں وہ ان کی دفاعی ڈکٹرین کے اعتبارسے انھیں محفوظ رکھ سکتے ہيں جبکہ تہران ترک اسلحہ کانفرنس میں مکمل طورپراس کے برخلاف موقف اپنایا جارہا ہے اس کانفرنس کا نعرہ ہے کہ ایٹمی انرجی سب کے لئے اورایٹمی اسلحے کسی کے لئے نہيں ۔اوریہ کانفرنس دنیا والوں کویہ پیغام دے رہی ہے ایٹمی ہتھیاروں سے انسانیت کی تباہی کے سواء اورکوئي نتیجہ نہيں نکلے گا اوراس طرح کے اسلحے عالمی امن وسلامتی کی ضمانت نہيں دے سکتے درحقیقت تہران کانفرنس کا مقصد دنیا کے ملکوں کا اس بات پراتفاق کرنا ہے کہ این پی ٹی معاہدے کے مطابق پرامن مقاصد کے لئے سب کوایٹمی انرجی سے استفادے کا  حق دیا جائے ۔ کیونکہ این پی ٹی معاہدے کے مطابق جن ملکوں نے اس معاہدے پردستخط کئے ہيں ان کوپرامن ایٹمی ٹکنالوجی سے استفادے کا حق حاصل ہے اوریہ ان ملکوں کا مسلمہ حق ہے اوراسی طرح این پی ٹی کی شق نمبرچھ میں کہا گیا ہے کہ جن ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیارموجود ہيں انھیں اپنے ہتھیار تباہ کردینے ہوں گے جبکہ واشنگٹن کانفرنس میں این پی ٹی معاہدے کے برخلاف موقف اپنا یا گیا اوراس میں کہا گیا کہ جن ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیارہیں وہ اپنی دفاعی ڈکٹرین کے تحت اپنے ہتھیارمحفوظ رکھ سکتے ہيں اس سے بھی بڑھ کرامریکی صدرنے تواپنا ایک احمقانہ بیان دے کرپوری دنیا کوحیرت میں ڈال دیا امریکی صدراوبامہ نے تویہاں تک کہہ دیا کہ وہ ایران جیسے ملکوں پرایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے دریغ نہيں کریں گے امریکی صدرکا یہ بیان این پی ٹی کی دھجیاں اڑانے کی ایک بھرپورکوشش ہے اوراس طرح امریکہ نے یہ ثابت بھی کردیا کہ این پی ٹی معاہدے کی امریکہ کے تسلط پسندانہ  عزائم کے نقطہ نگاہ سے کوئي وقعت نہيں ہے جبکہ تہران کانفرنس میں اس بات کی کوشش کی جارہی ہے لوگوں کوایٹمی ہتھیاروں سے لاحق خوف سے نجات دلائي جائے اورسب کواس بات پرمجبورکیا جائے کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیار نابود کردیں ۔

.........

/110